ابنا: بیروت میں جمعہ کے روز ویڈیو خطاب کے دوران حزب اللہ کےسیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ تنظیم میں سی آئی اے کے تین جاسوس گرفتار کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار دو جاسوسوں کو بیروت میں موجود امریکی سفارتخانے کا تحفظ حاصل تھا۔حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ایک جاسوس کو پانچ ماہ قبل تنظیم میں شامل کیا گیا تھا، تاہم اس سے تنظیمی سرگرمیوں اور فوجی صلاحیتوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا، اور نہ ان کے پاس تنظیم کے متعلق حساس معلومات تھیں۔
انھوں نے الزام کہا: اسرائیل نے سی آئی اے کی مدد سے جاسوسوں کو حزب اللہ میں شامل کیا تھا۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ دونوں گرفتار شدہ جاسوسوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے کام کرنے کا اعتراف کیا ہے جبکہ تیسرے جاسوس سے جس پر امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام ہے، تفتیش کی جا رہی ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ جن تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان کی وجہ سے حزب اللہ یا اس کی عسکری صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ امریکہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے لیے کام کرتا ہے، اسرائیلی حزب اللہ کے ڈھانچے میں کوئی بھی مداخلت نہیں کر سکے تو انہوں نے سی آئی کے مدد طلب کی ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جس طرح کی خبریں انہوں نے ( ارکان) سے مانگی تھیں وہ امریکی انتظامیہ کی دلچسپی کے لائق نہیں ہیں، یہ فوجی تفصیلات ہیں جس میں کسی بھی جنگ کے لیے اسرائیل کو دلچسپی ہے۔ان کا کہنا تھا اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ( بیروت میں) امریکی سفارت خانہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کا اڈّہ ہے۔ تفصیل:
انھوں نے کہا کہ لبنان میں بھی بعض قوتیں ایران اور حزب اللہ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں لیکن اسرائیل حزب اللہ کے سامنے بدستور بے بس ہے اور اس وقت لبنان میں 100 فیصد لبنانی حکومت تشکیل پائی ہے اور نجیب میقاتی کی حکومت کی تشکیل میں اجنبی قوتیں کوئی مداخلت نہیں کرسکی ہیں اور لبنان کی حکومت کی تشکیل میں تأخیر کی وجہ بیرونی دباؤ اور لبنان کی خاص صورت حال تھی اور لبنان میں اس قسم کی تأخیر بالکل فطری امر ہے۔ انھوں نے کہا کہ نجیب میقاتی کی حکومت کی تشکیل میں شام اور ایران کی مداخلت کے الزامات بے بنیاد ہیں اور کوئی بھی اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکا ہے اور اگر کوئی ثبوت ہوتا تو مخالفین ضرور پیش کرتے چنانچہ ان الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے دشمن لبنان کا کینہ دل پہ لئے بیٹھے ہیں اور وہ ایران اور شام پر الزامات لگا رہے ہیں کیونکہ یہ دونوں ممالک لبنان میں عوامی حکومت کی تشکیل کے خواہاں تھے۔ انھوں نے کہا یہ الزام بھی غلط ہے کہ حزب اللہ حکومت لبنان پر قبضہ کرنا چاہتی ہے کیونکہ نجیب میقاتی کی حکومت میں حزب اللہ کے وزراء کی تعداد صرف دو ہے۔انھوں نے کہا کہ سعد حریری کے گروپ نے شرطیں لگائی تھیں کہ میقاتی حکومت نہیں بنا سکیں گے لیکن حکومت بن گئی ہے، اب وہ دنیا والوں سے کہہ رہے ہیں کہ یہ حزب اللہ کی حکومت ہے جبکہ حزب اللہ کے اس حکومت میں صرف دو وزیر ہیں۔ اور یہ حکومت قومی اتحاد کی حکومت ہے جس میں تمام رنگوں اور نسلوں نیز تمام قوموں اور مذاہب کے لوگ موجود ہیں اور قلمدان جماعتی قوتوں کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوئے بلکہ تمام جماعتوں کو برابر کی نمائندگی دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ 14 مارچ دھڑے نامی اپوزیشن ملک میں اندرونی فتنہ انگیزی کے درپے ہے اور یہ جو وہ کہہ رہے ہیں کہ میقاتی کی حکومت حزب اللہ کی حکومت ہے اس سے ان کا مقصد اختلافات کو ہوادینا ہے اور وہ اس بات کی طرف توجہ نہیں دے رہے کہ اس تشہیری مہم کی وجہ سے لبنان کو کیا کیا نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں کیونکہ حزب اللہ کی بیرونی دنیا میں مفادات نہیں ہیں اور ہمیں بیرونی دنیا میں اپنے مفادات کو خطرہ درپیش ہونے سے کوئی خوف نہیں ہے لیکن لبنان کے اندرونی اور بیرونی مفادات کو اس تشہیراتی مہم سے نقصان پہنچتا ہے۔۔انھوں نے کہا کہ 14 مارچ دھڑا سیاسی عمل اور جمہوریت سے ناواقف ہے ورنہ وہ کبھی بھی ملک میں فتنہ انگیزی پر راضی نہ ہوتا اور لبنان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچاتا۔ انھوں نے کہا کہ لبنان کی نئی حکومت بڑی آسانی سے اعتماد کا ووٹ لے گی۔سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ حزب اللہ نے تین مغربی جاسوس گرفتار کرلئے ہیں اور اب جبکہ اسرائیل حزب اللہ میں گھسنے میں ناکام ہوگیا ہے تو اس نے امریکہ کا دامن پکڑا ہے اور جو دو جاسوس ہم نے پکڑے ہیں ان کا تعلق اسرائیل سے نہیں بلکہ امریکی سی آئی اے سے ہے اور تیسرا جاسوس اس وقت زیر تفتیش ہے تا کہ معلوم ہوسکے کہ کیا وہ اسرائیل کے لئے کام کررہا تھا یا امریکہ یا کسی یورپی ملک کے لئے۔ انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کی طرف سے سلامتی کے حوالے سے ہونے والے اقدامات کے دوران چند ماہ قبل واضح ہوا کہ دو ایسے افراد حزب اللہ میں موجود ہیں جو "العوکر" کے علاقے میں موجود سی آئی اے کے افسروں سے وابستہ ہیں جن کے نام ہم ان کے خاندانوں کی حرمت کے تحفظ کی بنا پر بیان نہیں کرتے اور سی آئی اے کے لئے ان کی سرگرمیان ثابت ہوچکی ہیں اور یہ دو افراد چند ہی مہینوں سے حزب اللہ میں سی آئی اے کے لئے کام میں مصروف ہوگئے تھے اور تیسرا شخص بھی پکڑا گیا ہے جس کا تعلق بیرونی قوتوں سے ثابت ہوچکا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ کس ملک یا حکومت کے لئے کام کررہا تھا۔ انھوں نے کہا: جاسوسوں کی تعداد کے بارے میں مخالف قوتوں کی تشہیری مہم جھوٹی اور بے بنیاد ہے اور پکڑے جانے والے جاسوسوں کی تعداد تین ہی ہے اور اگر یہ تعداد اس سے زیادہ ہوتی تو میں اس تعداد کے اعلان کی جرأت رکھتا ہوں اور میں ضرور بیان کرتا۔ انھوں نے کہا کہ بعض ذرائع نے دروغگوئی کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار جاسوسوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے جبکہ یہ بات بالکل غلط ہے اور ان کی یہ باتیں بھی غلط اور بے بنیاد ہیں کہ جاسوسوں کے درمیان بعض علماء بھی موجود ہیں اور یہ بات بھی غلط ہے کہ ان کے درمیان ہمارے قریبی حلقے کے لوگ بھی موجود ہیں کیونکہ ایسا ہوہی نہیں سکتا۔ گرفتار جاسوسوں کا تعلق کسی بھی حساس مراکز سے نہیں تھا اور ان کے پاس ایسی اطلاعات نہیں تھیں جس سے حزب اللہ کے ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہو یا اس کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہو یا حزب اللہ کی جنگی اور مزاحمتی قوت کو نقصان پہنچتا ہو اور ان لوگوں کا شہید عماد مغنیہ کے خلاف دہشت گردانہ کاروائی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے سامنے بالکل بے بس ہے کیونکہ اسرائیلیوں نے اس بار اپنے مقاصد کے لئے اس بار سے آئی سے مدد طلب کی ہے۔ اسرائیل کو گذشتہ تین برسوں کے دوران حزب اللہ میں شدیدترین نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اور امریکی افسروں کی کامیابی کی وجہ بھی یہ تھی کہ ان لوگوں کو لبنان میں سفارتی تحفظ حاصل ہے۔ نصر اللہ نے سی آئی اے کی طرف سے لبنان میں کرائے کے جاسوس بھرتی کرنے کے عمل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا: یہ بات بہت اہم ہے کہ لبنان میں سی آئی اے کو اپنے لئے جاسوسی کے مقصد سے افراد بھرتی کرنے پڑ رہے ہیں لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حزب اللہ نے ان لوگوں کا بڑی تیزرفتاری سے سراغ لگایا اور شاید یہ پہلی بار ہو کو سی آئی اے کو سلامتی کے ایسے نظام کے ساتھ پالا پڑرہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جاسوسوں کی گرفتاری حزب اللہ کی عظیم کامیابی ہے اور اس سے ہمارے ڈھانچے کی سلامتی کی ضمانت ملتی ہے اور دشمن کی طرف سے نفوذ کرنے کا سدباب کرنے کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ لبنانی عوام بھی العوکر میں قائم امریکی سی آئی اے کے جاسوسی اڈے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے عوام کو دشمن کی نفسیاتی جنگ سے متأثر ہونے سے خبردار کیا اور کہا کہ اس وقت لبنان کو نئی نفسیاتی جنگ کا سامنا ہے جو درحقیقت برین سیکورٹی وار کہلانی چاہئے اور اس جنگ میں امریکی سیکورٹی اور جاسوسی ادارے صہیونی اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور ان کا مشترکہ مقصد مزاحمت تحریک پر غلبہ پانا ہے اور البتہ اس سلسلے میں عرب حکومتوں اور مغربی ممالک کے جاسوسی اداروں سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ مزاحمت تحریک اس میدان میں بھی کامیاب ہوجائے گی اور ہم نے اس جنگ کے لئے پوری تیاری کررکھی ہے اور ہم اس سلسلے میں اپنی پوزیشن مستحکم کریں گے اور یقینی طور پر ہم اس بار پہلے سے بھی زیادہ شکوہ و عظمت کے ساتھ نئی کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل ہر سال "ٹرننگ پوائنٹ 5" نامی فوجی مشقیں کرتا ہے اور اس سال اس نام کی پانچویں مشقیں بھی انجام پاچکی ہیں اور اعلان ہوا ہے کہ یہ مشقیں انھوں نے جولائی 2006 میں حزب اللہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے تجربات کو مد نظر رکھ کر انجام دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست میں اعلی سطحی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اور اس قسم کی جنگی مشقیں 2006 میں اسرائیل کی تاریخی شکست کا نتیجہ ہیں کیونکہ 2006 کی 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کے سامنے اسرائیلی شکست سے قبل کبھی بھی صہیونی ریاست نے اس طرح کی جنگی مشقیں نہیں کی تھیں اور پورے مقبوضہ فلسطین میں ٹرننگ پوائنٹ 5 نامی جنگی مشقیں در حقیقت اسرائیلی ریاست کی جانب سے اس بات کا اعتراف ہے کہ آنے والی جنگ میں اسرائیل کا اندرونی محاذ بھی حزب اللہ کے حملوں کی زد سے نہیں بچ سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی مزاحمت کی کارکردگی نے صہیونی ریاست کو مجبور کیا ہے کہ وہ کسی بھی اقدام سے قبل اس کے منفی نتائج کے بارے میں سوچے اور حالیہ جنگی مشقوں سے معلوم ہوا ہے کہ صہیونی ریاست کو معلوم ہوچکا ہے کہ اس ریاست کے تمام علاقے زد پذیر ہیں اور مزاحمت تحریک کے میزائل اس بار پوری اسرائیلی ریاست کو نشانہ بنائیں گے اور مقبوضہ فلسطین کے اندر ہی دست بدست لڑائی کے امکانات بھی موجود ہیں اور یہ ریاست ماضی کی طرح اندرونی محاذ کی پشت پناہی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اب چند ہی روز کے اندر جنگ کو اپنے مفاد میں ختم کرنے کی اہلیت سے بھی محروم ہوچکی ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ نکتہ صہیونی ریاست کی جنگی حکمت عملی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور حالیہ جنگی مشقوں سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ صہیونی ریاست کئی مہینوں تک مسلسل لڑائی کے لئے بھی تیاری کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرننگ پوائنٹ 5 سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صہیونی ریاست مشرق وسطی میں کن ممالک کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے لیکن اس نے اس نکتے کی طرف توجہ نہیں دی ہے کہ ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ میں بھی اس ریاست کے دشمنوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور عرب اور اسلامی دنیا میں اس کے دشمنوں کی کافی بڑی تعداد ہے لیکن یہ ریاست اس مسئلے کی طرف توجہ نہیں دے سکی ہے اور اس نے ایران، حزب اللہ، حماس اور شام پر اپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ جنگی مشقوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ علاقے میں حقیقی مزاحمت